کاروار:23/ دسمبر(ایس اؤنیوز)بھٹکل کے بحرہ عرب میں واقع نیترانی جزیرے پر 6اور7جنوری کوپہلی بارمنعقد ہونے والے بین الاقوامی سطح کا اسکوبا ڈاوئنگ اتسوا نیلے سمندر کی گہرائی میں موجود مختلف عجائبات کو آنکھ بھر کے دیکھنے کا موقع فراہم کرےگا۔
نیلے سمندر سے گھرے نیترانی جزیرہ اپنے دامن میں عجائبات کی دنیا آبادہے۔ موتیوں سے بھرے ہوئے ذخیرے اور مختلف حیاتی تنوع رکھنے والا جزیرہ اسکوبا ڈاوئنگ کے لئے موزوں و مناسب مقام ہے۔ یہاں کیاٹ فش، ٹائیگر فش، گن فش، پیاروٹ فش، سنیک فش، سونگ رے ، کچھوے سمیت 35سے زائد نسل کے آبی جانوروں کو دیکھا گیا ہے۔ ایسے جادوئی اور انوکھے آبی نسل کےمختلف جانور موتیوں کے ڈھیر میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔
نیترانی جزیرے پر منعقد ہونے والے بین الاقوامی اسکوباڈاوئنگ کے لئے ضلع انتظامیہ اور محکمہ سیاحت کی جانب سے 20لاکھ روپئے منظور کئے گئے ہیں۔ جب کہ اتسوا منعقد کرنے کی پوری ذمہ داری پونا کے فینی کک اڈونچرس ادارے کو دی گئی ہے۔ اتسوا کو کامیاب بنانے کے لئے ابھی سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
اسکوباڈاوئنگ میں دنیا بھر کے مختلف ممالک سے کل 150افراد شرکت کریں گے۔ اتسوا کی مناسبت سے مقامی طبقات، ماہی گیر، گہرے سمندر ، ساحل پر مشتمل ایک ڈاکومینٹری کی نمائش، تصویری نمائش، اسنوکرلنگ اور آبی کھیلوں کا انعقاد کیاجائے گا۔
انڈمان نکوبار، لکش دیپ ، پانڈیچری اور گوا کے بعداسکوبا ڈاوئنگ کے لئے نیترانی جزیرہ بہت ہی موزوں مرکز ہے۔ سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ضلع انتظامیہ نے اسکوباڈاوئنگ منعقد کرنے کے لئے ڈائیو گوا، ویسٹ کوسٹ ممبئی اور مرڈیشور کے نیترانی اڈونچرس اداروں کو اجازت دی ہے۔ ضلع نگراں کاروزیر آر وی دیش پانڈے نے اتسوا کے ٹیسراور پوسٹرس کا کمٹہ میں اجراء کرتے ہوئے اتسوا کے متعلق مزید جانکاری دینے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اسکوباڈاوئنگ کے لئے افرادکا انتخاب : جمعرات کو مرڈیشور کے ساحل پر اسکوبا ڈاوئنگ کی تربیت کے لئےافراد کاانتخاب ہوا۔ تیراکی اور جسمانی امتحان میں کامیاب 20امیدواروں کو اسکوبا ڈاوئنگ کی تربیت کے لئے منتخب کیاگیا۔ نیشنل سرف لائف سیونگ سوسائٹی کی طرف سے امیدواروں کی انتخابی کارروائی انجام دی گئی ۔ اس کیمپ میں کل 70افراد شریک ہوئے۔ مرڈیشور کے ساحل پر دوڑ اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے جسمانی صحت کا امتحان لیاگیا۔ جب کہ آر این ایس گالف ریسارٹ میں تیراکی کا امتحان منعقد ہوا۔ اس موقع پر بھٹکل کے اے سی منجوناتھ، ڈاکٹر رویندرناتھ، ساحلی ترقی بورڈ کے ممبر سریش، محکمہ سیاحت کے روی داس والیکر موجود تھے۔